Apricot benefits
Apricot benefits in urdu
Apricot khane ke fayde
| Apricot benefits |
مختصر تعارف
خوبانی کا شمار اہم پھلوں میں کیا جاتا ہے۔کچی خوبانی میں ترشی زیادہ پائی جاتی ہے۔لیکن پکنے کے ساتھ ساتھ یہ ترشی کم ہوتی جاتی ہے اور مٹھاس بڑھتی جاتی ہے۔اپنی غذائی اور قوت بخش صلاحیت کی بدولت یہ دنیا بھر میں مقبول ہے۔
خوبانی ایک سخت گٹھلی والا پھل ہے جس کی گٹھلی میں بادام پایا جاتا ہے۔خوبانی کا پھل گول یا لمبوترا ہوتا ہے۔جو کسی حد تک چپٹا بھی ہوتا ہے۔اپنی شکل و صورت کے اعتبار سے آڑو سے مشابہ ہے۔لیکن جسامت میں اسے بہت چھوٹی ہوتی ہے۔اس کا رنگ زردی مائل اورپیڑ پہ پکنے کے پر آڑو جیسا ذائقہ ہوتا ہے۔
تازہ اور خشک خوبانی دونوں صورتوں میں خوب استعمال کی جاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ خوبانی کا اصل وطن چین ہے۔وہاں یہ گزشتہ چار ہزار سال سے کاشت کی جا رہی ہے۔برصغیر میں بھی قدیم زمانے سے اس کی شجرکاری جاری ہے۔
وادی ہنزہ،پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے لوگ جو اپنی جسمانی قوت اور لمبی عمروں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں پچھلے پندرہ سو سال سے اس کی صحت بخش خوبیوں کی وجہ سے خوبانی کو زیر کاشت اور زیر اسعمال لا رہے ہیں۔
قدیم یونانی اسے غذائی ادویات میں شمار کرتے تھے۔جبکہ رومن اسے محبت کی دیوی سے منسوب کرتے تھے۔یورپ میں خوبانی سکندراعظم کے زمانے میں پہنچی اور مشرق وسطٰی میں یہ اپنے ذائقے اور مہک کی وجہ سے مقبول و مشہور ہوئی۔
غذائی اہمیت و افادیت۔
خوبانی متعدد غذائی اجزاء سے مالا مال ہے۔تازہ خوبانی قدرتی شکر،وٹامن اے اور کیشئیم کی وافر مقدار رکھتی ہے۔یہ وٹامن بی کمپلیکس ،ریبو فلاوین،نیاسین،اور وٹامن سی کا مؤثر ذریعہ ہے۔خوبانی کی گٹھلی میں پایا جانے والا بادام دوسرے باداموں کی طرح پروٹین اور چکنائی سے لبریز ہوتا ہے۔
اس بادام 40 سے45 فیصد تک ایسا تیل پایا جاتا ہے جو طبی اور کیمیائی لحاظ سے حقیقی بادم سے مشابہ ہوتا ہے۔تازہ خوبانی کے ایک سو گرام میں
رطوبت . . . . . . . . . . . . . . . . .85.3 فیصد
پروٹین . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 1.0 فیصد
چکنائی . . . . .. . . . . . . . . . . . . . 0.3 فیصد
معدنیات . . . . . . . . . . . . . . . . . . 0.3 فیصد
ریشے . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .1.0 فیصد
کاربو ہائیڈریٹس . . . . . . . . . . . . . . 11.6 فیصد
خوبانی کے معدنی اجزاء میں کیلشئیم 20 ملی گرام ،فاسفورس 25 ملی گرام ،آئرن 2.2 ملی گرام،اور وٹامن سی 6 ملی گرام پاۓ جاتے ہیں۔وٹامن بی کمپلیکس کی بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے۔تازہ
خوبانی کے ایک سو گرام میں 53 کیلوریز ہوتی ہیں۔
خوبانی کھانے چند حیرت انگیز فوائد
| Khubani khane ke fayde |
1_قبض کا خاتمہ کرتی ہے
خوبانی کا پھل معمولی سا جلاب آور ہے۔چنانچہ قبض کے علاج میں مفید ہے۔یہ تاثیر اس کے خلوی مادے اور پیکٹین اجزاء کی بدولت پائی جاتی ہے۔خلوی مادہ چونکہ ہضم نہیں ہوتا اس لیۓ انتڑیوں کو متحرک کرنے کا عمل سر انجام دیتا ہے۔جبکہ پیکٹین پانی جذب کر کے اسے ہضم نہ ہونے والے مادے میں شامل کرتا ہے۔اور اجابت کو آسان اور بہتر بناتا ہے۔
پرانی قبض کے مریضوں کو خوبانی کے روزانہ استعمال سے زبردست فائدہ ہوتا ہے۔روزانہ آٹھ سے دس دانے خوبانی کھانا مطلوبہ نتائج دیتا ہے۔
2_بدہضمی میں مفید ہے
خوبانی نظام ہضم پہ الکلی کے اثرات مرتب کر کے تیزابیت دور کرتی ہے۔لیکن اس کی یہ تاثیر کھانے سے پہلے کھاۓ جانے پر مؤثر ہوتی ہے۔خوبانی کے خود رو پودے کے پکے پھل سے بنا مربہ بھی بدہضمی کے علاج میں بہت مفید ہوتا ہے۔
3_خون کی کمی دور کرتی ہے
خوبانی میں چونکہ آئرن کا عنصر خوب پایاجاتا ہے اس لیۓ یہ انیمیا کے مرض میں بہترین غذائی علاج ہے۔اس میں پایا جانے والا بہت کم لیکن لازمی جزو تانبا بدن کو آئرن کی فراہمی یقینی بناتا ہے خوبانی کے باقاعدہ اور کھلے استعمال سے ہیموگلوبن یعنی خون کے سخ خلیات میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔
| Health benefits of apricot |
4_بخار کا علاج
خوبانی کا تازہ رس گلوکوز یا شہد میں ملا کر استعمال کرنا بخار میں آرام اور فرحت بخش ہے۔یہ پیاس کی شدت کو گھٹاتا اور جسم کو فاسد مادوں سے پاک کرتا ہے۔یہ آنکھوں ،معدے،جگر،دل اور اعصاب کو وٹامنز اور معدنی اجزاء مہیا کر کے نئی زندگی بخشتا ہے۔
5_جلدی بیماروں کو دور کرتی ہے
خوبانی کے پتوں کا تازہ رس جلد کی بیماریوں میں شفا بخش ہے۔اس کا بیرونی استعمال خارش تر،ایگزیما،دھوپ میں جھلسی جلد اور سردی میں پھٹی جلد کو ٹھیک کرتا ہے۔
ہڈیوں کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
| Apricot benefits in urdu |
خوبانی میں ہڈیوں کی نشوونما کے لیے ضروری تقریباً تمام معدنیات ہو سکتے ہیں جیسے کیلشیم، فاسفورس، مینگنیج، آئرن اور کاپر۔ لہذا، خوبانی کھانا آپ کی ہڈیوں کی صحت مند نشوونما اور نشوونما کو یقینی بنا سکتا ہے، ساتھ ہی ہڈیوں کی عمر سے متعلق مختلف حالات، بشمول آسٹیوپوروسس کی روک تھام۔
دل کی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے۔
خوبانی آپ کے دل کو مختلف قسم کی بیماریوں سے بچانے کا ایک شاندار طریقہ ہو سکتا ہے، بشمول ایتھروسکلروسیس، ہارٹ اٹیک اور فالج۔ وٹامن سی کی زیادہ مقدار، نیز پوٹاشیم اور غذائی ریشہ، سبھی اچھی قلبی صحت میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر Lien Ai Pham-Huy کی سربراہی میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر، USA کی تحقیق کے مطابق، وٹامن سی جیسے اینٹی آکسیڈنٹس دل کو آزاد ریڈیکلز سے بچاتے ہیں۔ مزید برآں، پوٹاشیم خون کی نالیوں اور شریانوں کے تناؤ کو کم کر کے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، جبکہ غذائی ریشہ شریانوں اور شریانوں کے استر سے اضافی کولیسٹرول کو کھرچتا ہے، اس طرح انہیں صاف کرتا ہے اور دل پر دباؤ کو کم کرتا ہے۔ مجموعی طور پر، خوبانی کی یہ خصوصیات انہیں دل کی صحت کو بڑھانے کے لیے مثالی بنا سکتی ہیں۔ [6]
طریقہ استعمال
تازہ خوبانی دوپہر یا رات کے کھانے کے بعد کھائی جاتی ہے۔تاہم اس کا زیادہ اور عمومی استعمال خشک پھل کی صورت میں کیا جاتا ہے۔گرم کرنے پر یہ ذود ہضم ہوجاتی ہے۔اس کے جام،جیلی اور مربے بھی بناۓ جاتے ہیں۔شیرے میں محفوظ کی ہوئی خوبانی بھی بہت مقبول ہے۔اس کے باداموں کو مٹھائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
DISCLAIMER:
The Health Videos and content information are provided on this site for informational purposes only and is not intend to any Medical Advice, Counseling, Diagnosis or Treatment. Please contact to your health advisor for any your health concern.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں